ضلع بدین کے خربوزے کو ملکی سطح پر پذیرائی کی ضروت، ضلع بدین میں ٹماٹر کے بعد خربوے نے اپنی پیداوار کے تمام رکاڈ توڑ ڈالے۔حکومت اگر ٹرانسپورٹ کرائیوں میں کمی کروا دے تو ہزاروں آبادگاروں کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ تفصیلات بدین سے ارسلان آرائیں کی اس رپوٹ میں:-
موسم گرما کی تیز دھوپ میں اگر ٹھنڈک کا احساس کوئی پھل دلاتا ہے تو وہ خربوزہ ہے، ویسے تو پیلے چھلکے والے تمام فروٹ ہی گرمیوں کی خاص سوغات کہلاتے ہیں لیکن خربوزے کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ 100 فیصد قدرتی پانی کی تاثیر اپنے اندر سموئے خربوزہ گردوں، مثانے، کو گرمیوں میں گرمی سے متاثر ہونے نہیں دیتا۔ ضلع بدین میں رواں سال 1 لاکھ ایکٹر پر خربوزہ کاشت ہوا ہے اور یہ تمام خربوزہ پنجاب کی لاہور منڈی سپلائی ہوتا ہے، کھیت سے منڈی تک خربوزے کا سفر 30 گھنٹے میں اگر طے ہو جائے تو زمیندار کو فائدہ ہوتا ہے اور اگر لیٹ ہو جائے تو نقصان، خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے ایک پرانی کہاوت ہے لیکن حقیقت میں بھی ایسا ہے بوائی سے لیکر پھل لگنے تک کا سفر خربوزے کا 3 ماہ ہے جبکہ دو ماہ پکنے کے ساتھ ساتھ خربوزہ مارکیٹ میں پھنچتا رہتا ہے۔ ضلع بدین میں اس وقت خربوزے کی 2 ورٹیاں موجود ہیں ایک گولڈن جسے کاروباری زبان میں ڈبل سپر اور دوسری تما جسے کاروباری زبان میں وی آئی پی کہا جاتا ہے تما خربوزہ خربوزے کی دنیا میں بادشاہ کا مقام رکھتا ہے اور پنجاب بھر میں اپنی مٹھاس کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ ۔ ضلع بدین میں خربوزہ کاشت کرنے والے فارم مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت نے تیل کے نرخ کو کم کروائے لیکن کرائیوں میں کمی نہیں ہو سکی پچھلے سال جو ایک ٹرک کا کرایہ تھا لاہور تک وہ 80 ہزار تھا اور اب بھی وہی ہے اور اسی وجہ سے رواں سال کاشتکاروں کو اخرجات بڑھنے کی وجہ سے نقصان ہو رہا ہے ۔ کاشتکاروں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ضلع بدین میں خوبوزے کی منڈی قائم کرائے جائے تاکہ مقامی کاشتکاروں کو فائدہ ہو سکے۔ کیونکہ خربوزے کی اچھی فصل کو بہت زیادہ نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے اور محنت سے تیار کی گئی اس فصل کا زائقہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
ارسلان آرائیں بدین